جب یہ ویکسینیشن ہو جاتی ہے تو 10 سال تک بچے کو بوسٹ اور ڈوز کی ضرورت نہیں ہوتی 10 سال گزرنے کے بعد جب کسی کو زخم ا جائے تو وہ بوسٹر ڈوز لگا سکتا ہے... یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی کوئی ایکسیڈنٹ ہو جائے تو اس حالت میں صرف بوسٹر ڈوز لگانا چاہیے
جب یہ ویکسینیشن ہو جاتی ہے تو 10 سال تک بچے کو بوسٹ اور ڈوز کی ضرورت نہیں ہوتی 10 سال گزرنے کے بعد جب کسی کو زخم ا جائے تو وہ بوسٹر ڈوز لگا سکتا ہے... یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی کوئی ایکسیڈنٹ ہو جائے تو اس حالت میں صرف بوسٹر ڈوز لگانا چاہیے
Teatunus :
اس ویکسین کو دینے کے لیے بچوں میں جب ان کو پہلی بار یہ ویکسین دیا جاتا ہے تو تین ڈوز دی جاتی ہیں
پہلا ڈوز پہلے ہفتے میں..
دوسرا ڈوز چار ہفتے بعد...
تیسرا ڈوز چھ ماہ بعد...
السلام علیکم یہ نیچے دیا ہوا لنک میرے فیس بک پیج کا ہے جہاں پر میں پشتو زبان میں بہت سی پیچیدہ بیماریوں کے بارے میں ویڈیو بناتا ہوں اگر کسی کو اسی ویڈیو دیکھنی ہو تو اس لنک سے مل سکتی ہے
www.facebook.com/share/v/18h1...
#15thramzan
#ramzan2025
#duty#medicalemergencg#internalmedicin
اگر مریض کو کچھ دن پہلے یا کم عرصے کے دوران بڑا اپریشن ہوا ہو تو اس کو بھی انجیکشن نہیں لگایا جاتا
جب کسی مریض کی عمر 18 سال سے کم ہو تو اس کو بھی یہ انجکشن نہیں لگایا جاتا
جب مریض کو پہلے سے دل کی کوئی بیماری جس میں وہ خون پتلا کرنے کے لیے دوائی لے رہا ہو یا یہ اس کو اسی طرح کی کوئی بیماری ہو جس میں خون پتلا ہوتا ہے تو ایسے مریضوں کو یہ انجکشن نہیں لگایا جاتا
جب مریض کو فالج ہو جائے تو اس کو ابتدائی تین سے چار گھنٹوں کے دوران الٹی پلیز انجکشن لگایا جاتا ہے اس وقفہ کو window periodکہتے ہیں
السلام علیکم امید ہے اپ سب خیریت سے ہوں گے اج بہت دنوں بعد ملاقات ہو رہی ہیں تو اج ہم بات کریں گے کہ مریض کو جب فالج ہو جائے تو پالج سے بچنے کے لیے اور انجیکشن لگایا جاتا ہے اسے کب اور کیسے لگایا جائے
تو یہاں میں نے وجوہات بیان کی جس کی وجہ سے پھیپھڑوں میں پانی ا جاتا ہے اس لیے اس میں پریشانی کی کوئی بات اس طرح ہر بیماری میں نہیں ہوتی ہیں ان میں سے تقریبا 80 فیصد کا علاج ممکن ہے اور مریض مکمل شفایاب ہو جاتا ہے
اپ جن بیماریوں میں transudative plueral effusion ہوتا ہے وہ یہ ہے
nephrotic syndrom
Heart failure
Meig syndrome
Mulnurtition
اب ان بیماریوں کا ذکر کریں گے جن کی وجہ سے Exudative effusion ہوتا ہے
1)نمونیا
2)پھیپھڑوں کا کینسر
3)ٹی بی
4)جوڑوں کی بیماری RA جب پیپڑوں کو پھیل جاتی ہیں
اور بہت سی بیماریاں جس میں ڈریسلر سنڈروم یلو نیل سینڈ روم اور اس طرح کی بیماری اتی ہیں لیکن وہ اپ لوگوں کی سمجھ میں پوری نہیں ائے گی
اس رپورٹ کے بعد ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ یہ پانی Exudative ہے یا Trabsudative ہے کیونکہ دونوں کی وجہ مختلف بیماریاں ہوتی ہیں اور اس کا علاج بھی مختلف ہوتا ہے..
پھیپھڑوں میں جب پانی جمع ہو جاتا ہے تو وہ xray کی مدد سے ہم دیکھتے ہیں کہ پانی کس طرف زیادہ ہے پھر اس کے بعد ہم سرنج کے ذریعے وہ پانی حاصل کرتے ہیں اور اس سے ایک ٹیسٹ کرتے ہیں جس کو pleural RE کہتے ہیں
اج ہم بات کریں گے ایک بیماری کے بارے میں جس میں پھیپڑوں کے اندر پانی ا جاتا ہے اور جب ڈاکٹر ان کو کہتا ہے کہ ان کے پیپروں میں پانی اگیا ہے تو وہ بہت زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں ہے اج ہم اس بارے میں بات کریں گے ہم اس کو میڈیکل ٹرم میں pleural effusion کہتے ہیں
❤️
ڈینگی کے بارے میں اگر اپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو اپ کمنٹ سیکشن میں پوچھ سکتے ہیں
کچھ اور بیماریاں بھی ہیں جو ڈینگی کی طرح علامات رکھتی ہیں اس میں ایک ملیریا اور دوسرا chikengunha fever ہے
بعض لوگ ڈینگی کے مریض کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ ان کو کھانے میں کیا دینا چاہیے تو ڈینگی کا مریض جو اس کا دل چاہے وہ کھا سکتا ہے
اگر حمل کے دوران کسی عورت کو ڈینگی بخار ہو جائیں تو اس کا علاج ایسا ہی ہے جیسا ایک نارمل بندے کا ہوتا ہے یعنی اس کا علاج ایک عام مریض کی طرح ایک جیسا ہوتا ہے
ڈینگی کے مریض کو جب خون کی الٹیاں ا جائے تو یہ خطرے کی علامت ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مریض کو خدانخواستہ اتنی بڑی بیماری ہو گئی ہو یہ ڈینگی بیماری کے کچھ فیسز میں ہوتا ہے اور مریض تین چار دن بعد بالکل ٹھیک ہو جاتا ہے
Dengue leak syndrom
علامات یہ ہیں
کسی بھی حصے سے جب خون انا شروع ہو جائے بہت زیادہ پیٹ درد ہو الٹیاں کنٹرول نہیں ہو رہی ہو
اور اپ کے پھیپھڑوں اور اور پ یٹ میں پانی جمع ہو شروع ہو جائیں جو کہ الٹراساؤنڈ اور جسٹ ایکسرے پر اتی ہوں
Dengue leak phase
ایک انتہائی خطرناک phase ہوتا ہے ڈینگی کی بیماری کے دوران اور یہ تب شروع ہوتا ہے جب اپ کا بخار نارمل پر ا جاتا ہے تو جس دن اپ کا بہت نارمل ا جائے اس کے بعد جو 48 گھنٹے ہیں وہ انتہائی کروشل ہوتے ہیں کیونکہ اس پیج سے اپ پھر ڈینگی لیک بیس میں جا سکتے ہیں...
ڈینگی کا مچھر صبح طلوع افتاب اور غروب افتاب کے وقت کاٹتا ہے یہی اس کے کھانے کا ٹائم ہوتا ہے ابھی تک جو ریسرچ ہوئی ہیں تو ان دو دونوں اوقات میں انتہائی احتیاط کرنی چاہیے
ڈینگی کی ویکسین ابھی تک نہیں ائی اور یہ ابھی ٹرائل بیسز پر ہے ڈینگی کے نام پر کسی بھی ویکسین پر دو کا نہ کھائے
بعض لوگ پپیتے کا پانی پیتے ہیں بعض لوگ کوئی دوائی کھاتے ہیں یہ سب حکیمی دوائیاں ہیں اور ابھی تک کوئی مثبت سائنسی تحقیق نے یہ بات ثابت نہیں کی کہ اس سے سفید خون بڑھتا ہے اور جو مواد گوگل پہ ملتا ہے وہ صرف مفروضے ہیں اس لیے اپنے پیسے اس پر خرچ نہ کریں
عموما کچھ لوگ جن کے پلیٹلیٹ 30 ہزار سے کم ہوں وہ ہسپتال ا جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں پہلے ہی سی سفید خون لگایا جائے شاید بعد میں سفید ہون کم پڑ جائے تو اس لیے لگا دے تو اپ ایک بات ذہن میں رکھیں کہ ایسا بالکل بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے اپ کے سفید خون کی بڑھوتری میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا
ڈینگی بہار میں سفید خون یعنی پلیٹ لیٹ کب لگانا چاہیے
عموما جب اپ کا سفید خون 10 ہزار سے کم ہوں اور کچھ ایسی علامتیں ہوں مطلب ابھی بھی اپ کے ناک منہ یا پیشاب میں خون جا رہا ہو تو صرف اس علامات کی صورت میں اپ سفید خون لگوا سکتے ہیں
ڈینگی کے لیے مختلف ٹیسٹ ہوتے ہیں پہلے تین چار دن تک جو ٹسٹ کیا جاتا ہے اسےDengue Ns1 کہتے ہیں
Dengue IgM یہ ٹس چار سے پانچ دن بعد پازیٹو اتا ہے
وہ خطرناک علامات جس کے پیدا ہونے کی صورت میں اپ سیدھا ہسپتال میں داخل ہو سکتے ہیں
1)جب اپ کے ناک منہ پیشاب یا دست میں خون انے لگے
2)جب اپ کے پیٹ کا درد بہت زیادہ ہوں اور بندہ کنٹرول نہیں کر سکتا ہوں
3)جب اپ پانچ یا پانچ مرتبہ سے زیادہ الٹیاں کرے چاہے اس میں خون ہو یا نہ ہو